اینٹی بائیوٹک میڈیسن بس ضرورت کے وقت
یہ فائدہ دینے کی بجائے نقصان پہنچا سکتی ہیں
ایک اہم ترین بات جو سب کو پتہ ہونا چاہئے یہ ہے کہ اینٹی بائیوٹک ادویات صرف ان امراض میں فائدہ دیتی ہیں جو بیکٹیریا کی وجہ سے ہوں، اگر انفیکشن وائرس کی وجہ سے ہو تو یہ ادویات فائدہ دینے کی بجائے نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ڈاکٹر اور مریض دونوں کیلئے ضروری ہے کہ وہ ہر ممکن احتیاط کریں۔
دوسری جانب افسوس ناک بات یہ ہے کہ اینٹی بائیوٹک ادویات کا غیر ضروری استعمال بہت زیادہ کیا جاتا ہے۔
اس طرح نہ صرف وہ اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں بلکہ اپنے گھر والوں، رشتہ داروں اور دوستوں کیلئے ایک سنگین مسئلہ کھڑا کرنے کے علاوہ پوری انسانیت کیلئے بھی ایک خطرہ پیدا کر دیتے ہیں کیونکہ ایک دو دن دوا کے استعمال سے مریض کے جسم میں موجود جراثیم ختم نہیں ہوتے بلکہ نیم مردہ سے ہو جاتے ہیں اور تھوڑے عرصے کے بعد پھر تازہ دم ہو کر مریض پر حملہ کر دیتے ہیں۔
اس بار وہ ادویات جراثیم پر دوبارہ اثر انداز نہیں ہوتیں کیونکہ وہ جراثیم اس دوا کے خلاف مزاحمت کرتے ہیں جو ان کی پہلی بار میں مکمل طور پر فنا نہیں کرتی۔
اس طرح لاپروائی اور غیر ذمہ دارانہ استعمال کا سب سے تاریک پہلو یہ ہے کہ موجودہ اینٹی بائیوٹک اپنی افادیت کھو دیتی ہیں جس سے کئی بار انسانی جان کو بھی خطرات لاحق ہو جاتے ہیں۔اس طرح نئی اینٹی بائیوٹک ادویات تلاش کرنا پڑتی ہیں لیکن ان کا بھی یہی حال ہوتا ہے۔
ڈبلیو ایچ او کے مطابق امریکہ جیسے ترقی یافتہ ملک میں ہر سال کم از کم ایک لاکھ مریض ایسی ہی انفیکشنز کی وجہ سے مر جاتے ہیں۔ماہرین کہتے ہیں کہ جب اینٹی بائیوٹک کے خلاف جراثیمی مزاحمت نہ پیدا ہو تو ڈاکٹر اور مریض دونوں کو نہایت ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔اس لئے اینٹی بائیوٹک ادویات استعمال کرنے سے پہلے بہت زیادہ سوچ بچار کریں اور بہت زیادہ احتیاط کے ساتھ یہ دوائیاں شروع کریں۔